Ishq Quotes in Urdu
تہمت سگریٹ پر ہی کیوں
عشق بھی تو مٌضرِ صحت ہے
تو اپنی ہتھیلی کی لکیروں کا مشاہدہ تو کرو
شائد اس پہ میری قسمت کے نشاں باقی ہوں
زندگی بھر کسی ایک کا
ہو کر رہنا ہی عشق ہے
تجھ سے کس نے کہا کہ ممکن ہے
میں رہوں اور مجھ میں تو نہ رہے
عشق کے آداب میں ہم سا واقف نہیں کوئی
ہم وفا میں انتہا کی حد سے گزر جاتے ہیں
عشق میں سب کچھ گنوانا پڑتا ہے
تب جا کے کہیں سکون آتا ہے
سوچا آج کچھ تیرے سوا اور سوچوں
پر ابھی تک اسی سوچ میں ہوں کہ اور کیا سوچوں
کبھی سوچا نہ تھا
اتنا سوچیں گے تمہیں
آپ جذبات کو قابو میں رکھیں
ابھی آپ کی عمر نہیں عشق کرنے کی
کنیز ہو کوئی یا کوئی شہزادی ہو
جو عشق کرتا ہے کب خاندان دیکھتا ہے
مجھے خبر نہ تھی اپنی خوش نصیبی کی
مجھے وہ ایسے ملا جیسے نور نظروں کو
یوں تو تجھ پر میرا کوئی اختیار نہیں پر
خدا کی قسم
زہر لگتے ہیں تیرے آس پاس بھٹکنے والے

کوئی تمہیں نہ مانگے
یہ بھی دعا مانگتے ہیں ہم
میری گواہی ستارے بھی دیں گے
میں مانگتا ہوں تجھے فجر کی ازانوں تک
نظر تو بہت دور کی بات ہے جاناں
میں تو تمہیں سردی بھی نہ لگنے دوں
میں اتنی ہی خاموشی سے دیکھتا ہوں تمہیں
وہ کہتے ہیں نا عبادت میں بولا نہیں جاتا
میں زندگی بھر تمہاری قدر کرنا چاہتا ہوں
میں چاہتا ہوں تم مجھے لا حاصل رہو
میں ان لمحات کو آخر بلاؤں کیسے
اور جذبات سے پیچھا چھڑاؤں کیسے
بہت عرصہ ہوا اس سے بچھڑے ہوئے
میں اب بھی مرتا ہوں اس کو بتاؤں کیسے
وہ کہتے ہیں نظر لگ جائے گی
ہمیں نہ ایسے دیکھا کرو
ارے انہیں کوئی بتائے
محبوب کو عاشق کی نظر نہیں لگتی
دیمک نما تھا اس کا عشق
اندر ہی اندر سے کھا گیا مجھ کو
تم کو دیکھا ہے جب سے تم سے دل لگا بیٹھے
بس ایک یہی غلطی نے زندگی برباد کر دی میری
نا کر تنگ سونے دے مجھے
تیری قسم میں تجھ سے ہار گیا ہوں
اس طرح جڑا ہے وہ میرے دل سے
اسے دل سے نکالوں تو دل ہی نکل آتا ہے سینے سے
تیری آنکھوں سے گفتگو کر کے
میری آنکھوں نے بولنا سیکھا ہے
نفرت کے قابل بھی نہ رہے ہم
عشق نے ایسا حال کیا ہے ہمارا
جن کی سانسوں سے دل دھڑکتا ہے
ان کے دکھ بھی قبول ہوتے ہیں
گرم ریت پہ چلنے کی سزا دو ہم کو
عشق کر بیٹھے ہیں بددعا دو ہم کو
ہم جیت بھی سکتے تھے اس عشق کی بازی کو
وہ جیت کے خوش ہوگا یہ سوچ کے ہم ہارے
حجاب آنکھوں کا ہوتا تو کتنا ہی اچھا ہوتا
تجھے جب بھی دیکھا تیری آنکھیں ہی قاتل نکلی
سوچ سمجھ کر کسی کو سجدہ میں مانگا کر
کہیں ایسا نہ ہو کہ
پھر اس کو بھلانے کے لیے
سجدے میں رونا پڑے
کیا خبر کل تجھے بھی ہو جائے
عشق والوں کی خیر مانگا کر
ﺗﺠﮫ ﮐﻮ ﺩﯾﮑﮭﻮﮞ ﺗﻮ ہر ﺍﮎ ﭼﯿﺰ ﭘﮧ ﭘﯿﺎﺭ ﺁﺗﺎ ہے
ﺍﺱ ﻗﺪﺭ ﻋﺸﻖ ﺳﻨﺒﮭﺎﻻ ﻧﮩﯿﮟ ﺟﺎﺗﺎ ﻣﺠﮫ ﺳﮯ
مجھے خود غرض کہتے ہو تو بلکل ٹھیک ہی کہتے ہو
کہ جس کی غرض ہی تم ہو تو وہ خودغرض کیوں نہ ہو
تجھ سے وہ میرا آخری عشق ہے
جو پہلی بار ہوا مجھے
تشخیص بجا ہے کہ مجھے عشق ہوا ہے
نسخے میں لکھ دیجئے ان سے ملاقات مسلسل
اس طرح تیری آرزو کی ہے
جب بھی دعا کی ہے با وضو کی ہے
نہ پوچھو حسن کی تعریف مجھ سے
محبت جس سے ہو بس وہ حسیں ہے
پتھر ہے تیرے ہاتھ میں یا کوئی پھول ہے
جب تو قبول ہے تیرا سب کچھ قبول ہے
اتنا خوددار تھا کہ کبھی گھر سے نہ نکلا تھا میں
اک تیری جھلک نے مجھے آوارہ بنا دیا
کوئی تعلق ہے گہرا جو ختم نہیں ہوتا
ہم نے دیکھا ہے ان سے کنارہ کر کے
جانے کتنوں سے کنارہ کر کے ہم نے
خود کو رکھا تھا فقط تمہارا کر کے
ہم نے نہ قطرہ دیکھا نہ کبھی دریا پہ غور کیا
بس جہاں تیری جھلک نظر آئی وہیں ڈوب گئے
باقی سارا جہاں آنکھوں سے دیکھتی ہوں
تجھے دیکھنے کے لیے آنکھیں بند کرنی پڑتی ہیں
لگا ہے ڈر کہ کہیں ہو نہ جاؤں پتھر کا
پلٹ کے میں نے تجھے میرے یار دیکھ لیا
نظر کی بھوک نے اوسان تیز کر ڈالے
بس اِک جھلک میں تجھے بے شمار دیکھ لیا
میں تو چلتی ہوں تیرے عشق کے انگاروں پر
پاؤں جلتے ہیں مگر دل کو قرار آتا ہے
مجھ سے میری محبت کا تقاضا پوچھتے ہو
مجھے تو تمہارے سائے سے بھی عشق ہے
مجھ کو روح میں بسا لو تو اچھا ہے
دل و جان کے رشتے اکثر ٹوٹ جایا کرتے ہیں
اب کوئی خواب دل میں اترتا ہی نہیں بہت سخت پہرا ہے تیری چاہت کا
لاحاصل محبوب کے پیچھے بھاگنے والوں کے قدموں سے جب زمیں سرکتی ہے
تو پہلا زخم روح پہ لگتا ہے
اور پہلا زخم گہرا ہو یا نہ ہو اثر ہمیشہ کے لئے چھوڑ جاتا ہے
کوئی اس شخص سا دنیا میں کہاں ہوتا ہے
لاکھ چہروں میں جسے دل نے ڈھونڈا ہوتا ہے
ہم عشق کے اس مقام پر ہیں میری جان
جہاں دل کسی اور کو چاہے تو گناہ ہوتا ہے
اسے کہنا سنبھل کے رہے عشق رستے میں چھوڑ دیتا ہے
بظاہر آتی نہیں دراڑ کوئی عشق اندر سے توڑ دیتا ہے
مچلتے رہتے ہیں ذہنوں میں وسوسوں کی طرح
یہ پسندیدہ لوگ بھی وبال جان ہوتے ہیں
تیری آنکھیں بھی کیا مصیبت ہے
میں کوئی بات کہنے آیا تھا
جن کی نظریں پاکیزہ ہوتی ہیں
ان کے پھر دل بھی پاکیزہ ہوتے ہیں
کیسے نکالوں تجھے اپنے دل و دماغ سے
بس گئی ہو رگوں میں خون کی طرح
ایسی ہی ہیں عنایتیں میری
تمہارے لیے ہر وقت دستیاب ہونا
جن چیزوں کے بغیر
میں خود کو نامکمل گردانتی ہوں
ان میں اول و آخر تم شمار ہوتے ہو
اجازت ہو تو مانگ لوں تجھے
آنسو بہہ رہے ہیں دعا رد نہیں ہوگی
