Dil Quotes in Urdu
خدا کی قسم بڑی مشکل سے ملتا ہے
وہ اک دل جو محبت نبھانے والا ہو
دل اس کا بھی تھا دل میرا بھی تھا فرق صرف اتنا تھا
وہ پتھر دل تھا جو سلامت رہا یہ شیشہ دل تھا جو ٹوٹ گیا
میں نے محسوس کیا ہے کہ دل کے دکھنے سے چہرے کی رنگت بدل جاتی ہے
ہم تو دل کے بہت نرم تھے
دنیا والوں نے ستم کر کر کے ہمیں پتھر کا بنا دیا
درد اسی کو ہوتا ہے
جس کے پاس دل ہوتا ہے
محبت کی کہانی میں کہاں یہ موڑ آتے ہیں
جن کو دل میں رکھتے ہیں وہی دل توڑ جاتے ہیں
دل میں کس کس کو جگہ دیں
غم رکھیں دم رکھیں فریاد رکھیں یا تیری یاد رکھیں
اب تو بکھرا سا پڑا ہے میرے سینے میں
ہائے وه دل کہ تجھے ٹوٹ کے چاہا جس نے
کافی سینوں میں صرف پتھر ہیں
خوش نصیبی ہے دل کا دل ہونا
ہم جیسے لوگوں کا جینا کیا مرنا کیا
آج تیرے دل سے نکلے کل دنیا سے نکل جاینگے
ہر عبادت کی قضا ہے لیکن
انسان کا دل توڑنے کی قضا نہیں
اجڑے ہوئے دل کو آباد کرنے کی ضد نہ کر اے زندگی
جلا دیا ہم نے وہ دل جس میں مطلبی لوگ بسا کرتے تھے
دل کی ویرانی کا کیا تذکرہ کروں
یہ ایک بار نہیں ہزار بار توڑا گیا ہے
عمر لگ جاتی ہے احساسوں کو الفاظ دینے میں
فقط دل ٹوٹنے سے کوئی شاعر نہیں بنتا
سنا ہے دل سمندر سے بھی گہرا ہوتا ہے
پھر کیوں نہیں بستا اس دل میں کوئی تیرے سوا
مت کھیل میرے دل سے بہت نازک مزاج ہوں میں
تجھے خبر بھی نہیں ہوگی اور ہم ہنستے ہنستے ٹوٹ جائینگے
سنا ہے ان کے نرم ہاتھوں سے پھسل جاتی ہیں چیزیں اکثر
میرا دل لگا ہے ہاتھ ان کے خدا خیر کرے
پیار اس سے کرو جس کا پہلے سے دل ٹوٹا ہو
جس کا دل پہلے سے ٹوٹا ہو وہ پھر کسی کا دل نہیں توڑے گا
تمھارے بنا یہ دھڑکنا ہی نہیں چاہتا
یقین مانو کچھ پاگل سا ہے دل میرا

دل کا دروازہ چھوٹا ہی رہنے دو
جو جھک کر اندر آئے سمجھو وہ ہی اپنا ہے
اچھا ہے صرف سنتا ہے
دل اگر بولتا تو قیامت ہوتی
اب دیکھوں گا کون توڑے گا اسے
دل بنا لایا ہوں میں بھی پتھر کا
تیرے بغیر دل کی کیا حالت ہے تم کیا جانو
مل کر بتائیں گے یہ دل کتنا تڑپا ہے تم سے دور رہ کے
انسان کی اصل موت تب ہوتی ہے
جب وہ کسی کے دل سے نکلتا ہے
ناموں کا اک ہجوم سہی میرے آس پاس
دل سن کر ایک نام دھٹرکتا ضرور ہے
تجھ سے ملنے کی جستجو بھی ہے
اور تو میرے روبرو بھی ہے
ہم نے سوچا کہ دل جلا ڈالیں
خیال آیا کہ اس دل میں تو بھی ہے
پھول کی پتی سے نازک تھا میرا دل
زمانے کے حادثوں نے اسے پتھر بنا دیا
بگڑ گئے ہم عشق میں تھوڑے بہت
دل ٹوٹا تو پھر دل توڑے بہت
نہیں معلوم کب سے ہے تعلق تم سے
تمہارا عکس تھا دل میں تمہارے نام سے پہلے
فیصلہ کر لیا ہے میرے دل نے
مجھے بس تمہارے دل میں ہی رہنا ہے
دل توڑتے ہیں جو دنیا میں کسی کا
کہتے ہیں قبول ان کی عبادت بھی نہیں ہوتی
لکھ دینے یا کہہ دینے سے
دل کے بوجھ ہلکے کہاں ہوتے ہیں
ایرے غیرے کو ٹھرنے کی اجازت نہیں دی
دل کو دل رکھا ہے بازار نہیں ہونے دیا
دل کرتا ہے اس کے سینے میں دل بن کر رہوں
وہ دھڑکنوں کو سنبھالے اور میں دھڑکتی رہوں
خاموش بیٹھ اے دل ٹوٹ جانا تیرا بڑی بات نہیں
کچھ لوگ بس سامنے ہوتے ہیں ہمارے ساتھ نہیں
آئے تھے میرے دل میں بڑے راستوں سے ہو کر
جب ملا نہ راستہ جانے کو تو دل ہی توڑ گئے
دل میں آنے کا راستہ ہوتا ہے
جانے کا نہیں
اس لیے انسان جب دل سے نکلتا ہے
تو دل توڑ کر نکلتا ہے
اجازت ہو تو کہہ دوں دھڑکتے دل کا افسانہ
وہی ہیں آپ محترم جس کا دل ہے دیوانہ
اب لوٹ کر مت آنا کبھی اے دوست
بہت ٹوٹ گیا ہے تمہیں ٹوٹ کر چاہنے والا دل
بے شک یہ میرے سینے میں ہے
پر یہ دل آج بھی تیرا ہے
یہ دل دل نہیں صاحب
ادھوری حسرتوں کا یتیم خانہ ہے
مت کرو کسی پہ اتنا بھروسہ
دل ٹوٹا تو پھر سنبھلنا مشکل ہو گا
تو خوش رہے ہر پل تیری خوشیاں ہم کو پیاری ہیں
اس دل کا کیا ٹوٹا ہے نا تو تھوڑا اور سہی
دل خود بخود تجھ پر فدا ہوا
کم بخت شوق سے تباہ ہوا
خوبیاں اتنی تو نہیں کہ کسی کے دل میں گھر بنا سکیں لیکن
کچھ ایسے پل ضرور چھوڑ جائیں گے کہ بھولنا آسان نہ ہو گا
جا تو بھی اس کے سینے میں جا کہ دھڑک اے دل
اس کے بغیر جی رہے ہیں تیرے بغیر بهی جی لیں گے
دل تو لے ہی لیا ہے آپ نے
کسی دن روح بھی قبظ کر لینا میری
لوگ کہتے ہیں تمہارا دل پتھر کا ہے لیکن
اک شخص اسے بھی توڑنے کا ماہر نکلا
پتھر کا دل بنا لیا ہے اب میں نے
دیکھتی ہوں اب کون توڑتا ہے اسے
خواہشیں دل کا ساتھ چھوڑ گئیں
یہ اذیت بڑی اذیت ہے
دنیا میں دل ہی ہے
جو بنا آرام کے اپنا کام کرتا ہے
اس لیے اسے خوش رکھیں
چاہے وہ اپنا ہو یا اپنوں کا ہو
دل کو توڑنے والے دل کے درد کو کیا جانے
پیار کے رسموں کے یہ زمانے والے کیا جانے
ہوتی ہے قبر کی نیچے کتنی تکلیف
اوپر سے یہ پھول چڑھانے والے کیا جانے
اشک سینے میں اتر جائیں تو کچھ خوف نہیں
دل جب آنکھوں میں دھڑکتا ہے تو ڈر لگتا ہے
ضروری نہیں کہ کچھ توڑنے کے لیے پتھر ہی مارا جائے
انداز بدل کر بولنے سے بھی بہت کچھ ٹوٹ جاتا ہے
دل غریب کی ویرانیاں تو دیکھ
کیسا نگر تھا جو تیرے ہاتھوں اجڑ گیا
اے میرے دل تو تو بہت بڑا تھا
اپنے اندر بٹھانے کے لیے تجھے کیا ایک ہی شخص ملا تھا
کرتا نہیں تم سے شکایت یہ دل مگر
کہنا یہ چاہتا ہے کہ تم تم نہیں رہے
تمہارا دل میرے دل کے برابر ہو نہیں سکتا
وہ شیشہ ہو نہیں سکتا یہ پتھر ہو نہیں سکتا
دل کے رشتے قسمت سے ملتے ہیں
ورنہ ملاقات تو ہزاروں سے ہوتی ہے
ٹوٹ کر بھی دھڑکتا رہتا ہے
دل سا کوئی وفادار نہیں دیکھا
ہم نے دل سے کہا کیا قیمت لوں گے اسے بھلانے کی
دل نے مسکرا کر جواب دیا بس دھڑکنا چھوڑ دوں گا
