Imam Ghazali Quotes in Urdu
فقیر کو صدقہ دے کر احسان نہ جتلا بلکہ اس کے قبول کرنے کا خود احسان مند ہو۔
(امام محمد غزالی)
عورت کی بدخلقی پر صبر کرنے والا حضرت ایوب علیہ السلام کے صبر کے برابر ثواب پائے گا۔
(امام محمد غزالی)
اللہ تعالی کا ہر فیصلہ عقل و عدل پر مبنی ہوتا ہے اس لیے کبھی بھی حرف شکایت ہونٹوں پر نہ لاؤ۔
(امام محمد غزالی)
غصہ شمع انسانیت کو بجھا دیتا ہے۔
(امام محمد غزالی)
عورت میں ایک کمزوری ہے جس کا علاج تحمل ہے اسے رنج نہ دینا چاہیے بلکہ اس کا رنج سہنا چاہیے۔
(امام محمد غزالی)
خاموشی بجائے خود ایک عبادت ہے۔
(امام محمد غزالی)
بدخلقی سے دشمنی پیدا ہوتی ہے اور دشمنی سے جفا کاری۔
(امام محمد غزالی)
انسان کا سب سے بڑا کارنامہ یہ ہے کہ وہ اپنے دل اور زبان کو قابو میں رکھے۔
(امام محمد غزالی)
اپنے آپ کو سب سے بہتر سمجھ لینا حماقت ہے۔
(امام محمد غزالی)
تکلف کی زیادتی محبت کی کمی کا باعث بن جاتی ہے۔
(امام محمد غزالی)
محتاجوں سے مہنگا خریدنا احسان میں ہے اور صدقہ سے بہتر ہے۔
(امام محمد غزالی)
جو غلطی کر نہیں سکتا وہ فرشتہ ہے جو غلطی کر کے ڈٹ جائے وہ شیطان ہے جو غلطی کر کے فورا توبہ کر لے وہ انسان ہے
(امام غزالی)

جو دوست مشکل وقت میں کام نہ ائے اس سے بچو کیونکہ وہ تمہارا سب سے بڑا دشمن ہے
(امام غزالی)
بے شک عوام کا فرض ہے کہ ایمان اور اسلام لا کر اپنی عبادات اور روزگار میں مشغول رہیں اور علم (دینی) کو علماء کے لیے چھوڑ کر ان کے حوالے کریں
(امام محمد غزالی)
نفس وہ بھوکا کتا ہے جو انسان سے غلط کام کروانے کے لیے اس وقت تک بھونکتا رہتا ہے جب تک وہ غلط کام کروا نہ لے اور جب انسان وہ کام کر لیتا ہے تو یہ کتا سو جاتا ہے کیوں کہ سونے سے پہلے ضمیر کو جگہ جاتا ہے
(امام غزالی)
وہ دعوت سب سے بدتر ہے جس میں امیر بلائے جائیں اور مسکین نہ بلائے جائیں
(امام غزالی)
کسی کی پہچان علم سے نہیں ہوتی بلکہ ادب سے ہوتی کیونکہ علم تو ابلیس کے پاس بھی تھا لیکن وہ ادب سے محروم تھا
(امام محمد غزالی)
تم پردے میں وہ کام نہ کرو جو لوگوں کے سامنے نہیں کر سکتے
(امام محمد غزالی)
دنیا کا طلبگار سمندر کا پانی پینے والے کی طرح ہے کہ جس قدر پیتا ہے پیاس اور لگتی ہے
(امام غزالی)
مومن پر لعنت کرنا اس کو قتل کرنے کے مترادف ہے
(امام غزالی )
وہی شخص زبان کے شر سے نجات پاتا ہے جو اسے شریعت کی لگام کے ذریعے قابو کرتا ہے اور اسے اسی بات کے لیے استعمال کرتا ہے جو اسے دنیا اور اخرت میں نفع دے
(امام غزالی علیہ الرحمہ)
جتنے سجدے جوانی میں کرنے ہیں کر لو کیوں کی میں نے بڑھاپے میں اکثر لوگوں کو بنا سجدے کی نماز پڑھتے دیکھا ہے
(امام غزالی)
اگر تیرا دوست تنہائی میں تجھے تیرے عیوب سے اگاہ کرے تو چاہیے کہ اس کا احسان مان اور غصہ نہ کرے کیونکہ یہ ایسا ہے کہ جیسے کوئی شخص تجھے اگاہ کرے کہ تیرے کپڑوں میں سانپ ہے تو تو اس کی بات پر غصہ نہ ہوگا اور اس کا مشکور ہوگا
(امام محمد غزالی)
ایک جگہ ایسی ہے جو شہوت کی آگ کو تیز کر دیتی ہے اور وہ ہے ایسی سما یا مجلس جہاں مردوں کے ساتھ عورتیں بھی موجود ہوں اور حاضرین مجلس جوان اور اہل غفلت ہوں اور ایسی مجلس حرام ہے
(امام محمد غزالی)
جب مجھے پتہ چلا کہ محل کے بستر اور خالی زمین پر سونے والوں کے خواب ایک جیسے اور قبر بھی ایک جیسی ہوتی ہے تو مجھے اللہ کے انصاف پر یقین آگیا
(امام غزالی)
اگر ہم سے غلطی ہو جائے تو ابلیس کی طرح دلیر نہیں ہونا چاہیے بلکہ معافی مانگ لینی چاہیے کیونکہ ہم ابن آدم ہیں ابن ابلیس نہیں
(امام محمد غزالی)

