Qabr Quotes in Urdu

اگر کبھی کسی چیز کا غرور آنے لگے
تو ایک چکر قبرستان کا لگا لیا کرو
وہاں آپ سے بھی بہتر انسان
مٹی کے نیچے دفن ہیں
غرور کروں تو کس بات کا
یہ دنیا راستہ ہے قبرستان کا
قدر اور قبر کبھی جیتے جی نہیں ملتی
مر جائیں تو قبر بھی تیار اور قدر بھی
قبریں اپنے خالی پن کو روتی ہیں
لوگ اب زندہ جسموں میں مر جاتے ہیں
انسان کی سب سے مشکل رات قبر کی پہلی رات ہوتی ہے
یا اللہ ہمیں قبر کے عذاب سے بچانا
آمین
قبر اور قدر کبھی جیتے جی نہیں ملتے
مرتے ہی قبر تیار اور قدر لا جواب
دل کو توڑنے والے دل کے درد کو کیا جانے
پیار کے رسموں کے یہ زمانے والے کیا جانے
ہوتی ہے قبر کی نیچے کتنی تکلیف
اوپر سے یہ پھول چڑھانے والے کیا جانے
لوگوں کے گھر دیکھ کر کمتری محسوس نہ کریں
کیونکہ قبر سب کی ایک جیسی ہو گی
شکایت موت سے نہیں اپنوں سے تھی
ذرا سی آنکھ کیا لگی وہ قبر کھودنے لگے
جاؤ گے جب تم قبر میں
کچھ بھی نہیں پاس ہوگا
دو گز کفن کا کپڑا
تیرا لباس ہو گا
دنیا منزل نہیں اک سفر ہے
ہماری منزل تو قبر ہے
ابھی تو کر رہے ہو تکبر میں نظر انداز مجھے
قبریں کھودتے پھرو گے میرے ہم ناموں کی
قبر پہ تم میری رونے آؤ گے
ہم سے پیار ہے یہ بتانے آؤ گے
ابھی زندہ ہے تو بہت رلاتے ہو
جب سوئینگے تو جگانے آؤ گے
وہ ہم سے محبت کر کے بھول گئے تو کیا ہوا
لوگ تو ہاتھوں سے دفنا کر بھول جاتے ہیں کہ قبر کون سی تھی
چلو چھوڑو دنیا کی بے رخیاں
وہ سامنے دیکھو قبرستان میں کتنا سکون ہے
چاہے ہمارا گھر کتنا ہی بڑا ہو یا ہمارے کپڑے کتنے ہی مہنگے ہوں ہم کیوں نا بہت دولتمند ہو جائیں پر ہماری قبر مٹی کی ہی ہوگی جس میں غریب بھی دفن ہوتے ہیں
قبر کی پہلی رات سخت ترین ہو گی
یا اللہ ہمیں عذابِ قبر سے بچانا آمین
دبا کر قبر میں چل دیے
دعا نہ سلام
ذرہ سی دیر میں کیا ہو گا زمانے کو
دو تہائی سے زیادہ قبرستان ہے یہ دنیا
کسی کا دل مر گیا اور کوئی پورا مر گیا
نہ کر غرور تو اپنی اس حسین زندگی پے
تیری ہی زندگی کا اک دن ہوگا
نہ بستر ہو گا نہ سرہانہ ہوگا
قبرستان کے اک کونے میں تو پڑا ہوگا
پھر نہیں بستے وہ دل جو ایک بار اجڑ جاتے ہیں
قبریں کتنی بھی سجاو کوئی زندہ نہیں ہوتا
قبر آخرت کی منزلوں میں سے پہلی منزل ہے
قبر وہ خالی مکان ہے جو صرف اچھے اعمال سے ہی آباد ہو سکتا ہے
کسی کی زندگی میں اس کے لیے آسانیاں پیدا کرنا
اس کی قبر پر فاتحہ پڑنے سے ہزار درجے بہتر ہے
قبر وہ خالی کوٹھڑی ہے
جو صرف اچھے اعمال ہی سے روشن ہوگی
قبر کی آواز
یہاں اندھیرا ہے روشنی لانا
میں خاک ہوں بستر لانا
تنہائی ہے دوست لانا
سانپ بچھوں ہے اعمال لانا
بات ختم ہو گی قبر کی مٹی پے
ہم تجھے زندہ بھول نہیں سکتے
مت ڈال کفن چہرے پے مجھے عادت ہے مسکرانے کی
مت ڈال قبر پے مٹی مجھے امید ہے کسی کے آنے کی
اس طرح دل کے سرد آنگن میں
تیری یادوں کے داغ جلتے ہیں
جیسے آندھی میں ٹوٹی قبروں پر
سہمے سہمے چراغ جلتے ہیں
تم سے تو میری قبر بھی اچھی ہے
جو روز ستر بار یاد تو کرتی ہے
وہ پھول لے کر آئیں گے
ہائے وہ ڈھونڈیں گے قبر میری
چل چھوڑ دنیا کی بے رخی اے دل
وہ دیکھ قبرستان میں کتنا سکون ہے
ایک قبر کے کتبے پر کیا خوبصورت بات لکھی تھی
پڑھ لو فاتحہ خدا کے واسطے
کل تم بھی محتاج ہو گے اسی دعا کے واسطے
ڈھونڈتے رہ جاؤ گے قبر پر تختی بھی نہیں لگواؤں گا
انسان چاہے تو کتنا ہی امیر ہو جائے
لیکن آخرت کی زندگی کے لیے دو گز ہی جگہ ملتی ہے یعنی قبر میں
قبرستان ایسے لوگوں سے بھرے پڑے ہیں
جو سمجھتے تھے کہ دنیا ان کے بغیر نہیں چل سکتی
دولت مٹی کی طرح ہے اسے ہمیشہ پاؤں کے نیچے رکھنا چاہئے
اگر تم سرپہ چڑھاؤ گے تو یہ قبر بن جائے گی اور زندہ لوگوں کے لئے قبریں نہیں ہوتی
اتنی خاموشیاں کیوں ہوتی ہیں تیری آغوش میں
اے قبرستان
لوگ تو اپنی جان دے کر تجھے آباد کرتے ہیں
میں جب مر جاوں تو میری قبر پر
لکھنا موت بہتر ہے محبت سے
آنا میری قبر پر دو پھول چڑھا جانا
اگر رونا نہ آئے تو تھوڑا مسکرا دینا
میری قبر پہ تم رونے مت آنا
مجھے تم سے پیار ہے یہ کہنے مت آنا
جب تک زندہ ہوں درد دے دو
جس دن سو جاوں تو اس دن مجھے جگانے مت آنا
قبریں ہی جانتی ہیں کہ اس شہر جبر میں
مر مر کے دفن ہوئے کہ زندہ گڑے ہیں لوگ
موت کی گاڑی میں جب سونا ہو گا
نہ کوئی تکیہ نہ کوئی بچاؤ نا ہو گا
ہم ہوں گے اور ہماری تنہائی ہو گی
قبرستان میں ایک چھوٹا سا کونا ہو گا
کمی جب محسوس ہوئی اس ظالم کو میری
بہت رویا وہ میری قبر کے سینے سے لگ کر
میری قبر پہ ڈرامہ نہ رچایا جائے
کوئی اتنا خیر خواہ ہے تو ساتھ دفنایا جائے
قبر اور قدر میں فرق کوئی نہیں ہے
دونوں مرنے کے بعد ہی ملتے ہیں
زندہ لوگوں کو پاؤں تلے روند کے
ہم قبروں پر پاؤں رکھتے ہوئے خوف زدہ ہوتے ہیں
میں مر جاوں تجھے میری خبر نہ ملے
تو ڈھونڈتا رہے تجھے میری قبر نہ ملے
کیوں کر نہ تجھ سے لپٹ کر سوئیں اے قبر
ہم نے بھی تو جان دے کر پایا ہے تجھے
میری قبر پر بلا وجہ کا تماشہ نہ کرنا
جو زیادہ ہمدرد بنے اسے میرے ساتھ ہی دفنا دینا
میں تم سے اپنی قبر پہ اپنی فاتحہ کا حق بھی چھین لوں گا
یہ میری زندگی کی آخری وصیت ہوگی
ہمارا گھر چاہے کتنا ہی بڑا ہو
کپڑے کتنے مہنگے اور خوبصورت ہو
ہم کتنے امیر ہوں لیکن ہم سب کی قبر ایک جیسی ہوں گی
قبر کی اندرونی خوبصورتی کیلیے محنت کرو
ورنہ گھر والے تو باہر سے ماربل لگوا کر بھول جائیں گے
دامن قبر ہمارے اجداد بھی گئے اور پڑوسی بھی
ہمیں بھی ایک دن جانا ہے احبابوں کو چھوڑنے کے بعد
جس دن لوگوں کو اس بات کا اندازہ ہو جائے گا کہ ان کا ہر قدم قبر کی طرف جا رہا ہے تو وہ شاید گناہوں کو ترک کر دیں
اللہ سے دعا ہے اللہ ہم سب کو ھدایت والی زندگی گزارنے کی توفیق عطا فرمائے آمین
قبر ہی ایک ایسی جگہ ہے
جہاں جانے کے لئے لوگوں کو مرنا پڑتا ہے
دو گز زمین کا ٹکڑا چھوٹا سا تیرا گھر ہے
دنیا کے اے مسافر منزل تیری قبر ہے
غرور کس بات کا
دنیا کا ہر راستہ قبرستان کو جاتا ہے
اک قبر پے کیا خوب لکھا تھا
میں کس کو کیا الزام دو
ستانے والے بھی اپنے تھے
اور دفنانے والے بھی اپنے تھے
قبر گوشت اور چربی تو کھا جائے گی
لیکن قبر ایمان نہیں کھا سکتی
لہذا صحت سے کہیں بڑھ کر
ایمان کی فکر کرنے کی ضرورت ہے

